جموں،6؍ فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے ریاستی اسمبلی کو مطلع کیا کہ وادی کشمیر میں سال 2017میں 126مقامی نوجوانوں نے دہشت گردی کی راہ پکڑی جبکہ اس سے قبل سال 2016میں یہ تعداد 88 تھی۔وزیر اعلیٰ نے نیشنل کانفرنس کے رہنما علی محمد سگر کے ایک تحریری سوال کے جواب میں کہاکہ سال 2015 میں 66، 2016میں 88 اور سال 2017 میں 126 نوجوان دہشت گرد سرگرمیوں میں شامل ہوئے۔مختلف دہشت گرد تنظیموں میں گزشتہ سات سال میں شامل ہوئے مقامی نوجوانوں کی تعداد سال 2017میں سب سے زیادہ تھی۔اس خبر کو پولیس ڈائریکٹر جنرل ایس پی وید نے مسترد کر دیا تھا۔ گزشتہ سال مارچ میں پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2011، 2012 اور 2013 کے مقابلے میں سال 2014 کے بعد سے وادی میں ہتھیار اٹھانے والے نوجوانوں کی تعداد مسلسل بڑھی ہے۔سال 2010 میں 54 نوجوان دہشت گرد بنے۔سال 2011 میں کمی آئی اور 23 نوجوان دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوئے اور یہ تعداد اور کم ہو کر سال 2012 میں 21 اور سال 2013میں 16 رہ گئی۔اعداد و شمار کے مطابق سال2014 میں یہ تعداد بڑھ کر 53، سال 2016 میں اور بڑھ کر 66اور سال 2016 میں 88 ہو گئی۔دہشت گردی کی راہ پکڑنے والے مقامی نوجوانوں کی تعداد میں یہ اضافہ جنوبی کشمیر میں آٹھ جولائی، 2016کو تصادم میں حزب المجاہدین کے دہشت گرد برہان وانی کی موت کے بعد ہواہے۔سیکورٹی فورسز کو لگتا ہے کہ موجودہ وقت کے دہشت گردوں اور 1990کے ابتدائی دہائی کے دہشت گردوں میں فرق ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت کے دہشت گردانہ گروپوں کے مقابلے میں اس وقت کے دہشت گرد نظریاتی طور پر زیادہ کٹر ہیں۔حکام نے بتایا کہ یہ تشویش کی بات ہے کہ وادی میں نوجوان اس بات کو جانتے ہوئے بھی دہشت گرد گروپوں پر شامل ہورہے ہیں جس سے ان کے مارے جانے کا خطرہ ہے۔